hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4551

.

كنز العمال

4551
Kanz al-Ummal
4551- عن ابن عباس رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب سأله فقال: "أرأيت قول الله تعالى لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم: {وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى} هل كانت جاهلية غير واحدة؟ فقال ابن عباس: ما سمعت بأولى إلا ولها آخرة، فقال له عمر فأتني من كتاب الله تعالى بما أصدق ذلك، فقال قال الله تعالى: {وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ} 1. كما جاهدتم أول مرة، فقال له عمر: من أمرنا أن نجاهد؟ قال: مخزوم وعبد شمس. "أبو عبيد في فضائله وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
4551: ۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ان سے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دریافت فرمایا : اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کو حکم فرمایا تھا :
ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی۔ الاحزاب : 33
اور جس طرح پہلی (جاہلیت کے دنوں) میں اظہار تحمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔
بتاؤ کیا جاہلیت بھی کئی ایک ہیں (جو فرمایا گیا کہ پہلی جاہلیت کی طرح زیب وزینت کرکے نہ پھرو) ۔
ابن عباس (رض) نے عرض کیا : میں نے کسی ایسی چیز کی پہلی نہیں سنی جس کی آخر نہ ہو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کتاب اللہ سے اس کی تصدیق پیش کرو۔ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : فرمان الہی ہے :
وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ۔ الحج : 78
اور اللہ (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔
اور اس حکم سے مراد ہے کہ جیسا تم نے پہلے جہاد کیا تھا اسی طرح اب بھی جہاد کرو۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہمیں کس کے ساتھ جہاد کا حکم ہے ؟ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : مخزوم اور عبد شمس۔ (یعنی پہلے جنگ بدر میں ان کے سرغنہ لوگوں کو تہ تیغ کیا تھا اب ان کے آخر کو بھی ختم کرو۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
حضرت عمر (رض) کا معافی طلب کرنا
فائدہ : ۔۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ کیا جاہلیت کی کئی اقسام ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ کئی تو نہیں مگر پہلی اور آخری ضرور ہیں یعنی ہر چیز میں اول آخر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جاہلیت اولی ارشاد فرمایا گیا۔