hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4552

.

كنز العمال

4552
Kanz al-Ummal
4552- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب قال: إني لأبغض فلانا فقيل للرجل ما شأن عمر يبغضك، فلما كثر القوم في الدار جاء فقال يا عمر أفتقت في الإسلام فتقا؟ قال لا، قال فجنيت جناية؟ قال لا، قال أحدثت حدثا؟ قال لا، قال فعلام تبغضني؟ وقال الله: {وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَاناً وَإِثْماً مُبِيناً} فقد آذيتني فلا غفرها الله لك، فقال عمر: صدق والله ما فتق فتقا، ولا، ولا فاغفرها لي، فلم يزل به حتى غفر له". "ابن المنذر".
4552: ۔۔ شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں۔ اس شخص سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) تم سے نفرت کرتے ہیں ؟ اسی طرح بہت سے لوگوں نے اس کو یہ بات کہی ۔ آخر وہ تنگ ہو کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا :
اے عمر ! بتاؤ میں نے اسلام میں کوئی پھوٹ ڈالی ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا میں نے کوئی جرم کیا ہے ؟ فرمایا نہیں۔ پوچھا کیا میں نے کوئی شے ایجاد کی ہے ؟ فرمایا نہیں۔ آخر اس شخص نے پوچھا : پھر آپ مجھ سے کیوں نفرت کرتے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
الذین یوذون المومنین والمومنات بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بہتانا واثما مبینا۔ الاحزاب : 58
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی (تہمت) دیں جو انھوں نے نہ کیا ہو ایذاء دیں تو انھوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔
پھر اس شخص نے کہا : اے عمر ! تو نے بھی مجھے اذیت دی ہے اللہ بھی تیری مغفرت نہ کرے۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم ! اس نے پھوٹ ڈالی، نہ جرم کیا، نہ بدعت ایجاد کی، پس اے فلاں ! مجھے اللہ معاف کردے۔ اس طرح حضرت عمر (رض) (امیر المومنین) اس شخص کے ساتھ چمٹے رہے حتی کہ اس نے آپ کو معاف کردیا۔ ابن المنذر۔