45632- "من مسند جابر بن عبد الله" عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هل نكحت؟ قلت: نعم، قال: بكرا أو ثيبا؟ قلت: بل ثيبا، قال: فهلا بكرا تلاعبها وتلاعبك؟ قلت: إن أبي قتل يوم أحد وترك تسع بنات، فلي تسع أخوات، فلم أحب أن يجمع إليهن خرقاء مثلهن، وقلت: امرأة تقوم عليهن وتمشطهن، قال أصبت. " ص".
45632” مسند جابر بن عبداللہ “ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے نکاح کرلیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : کنواری ہے یا ثیب (جس کا پہلے نکاح ہوچکا ہو) میں نے عرض کیا بلکہ ثیب ہے۔ ارشاد فرمایا : کنواری سے شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کا جی بہلاسکتے اور وہ تمہارا جی بہلا سکتی۔ میں نے عرض کیا : میرے والد غزوہ احمد میں شہید ہوچکے ہیں انھوں نے اپنے پیچھے نو بیٹیاں چھوڑی ہیں میری نو بہنیں ہیں، میں نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ ایک اور اناڑی عورت کو شامل کردوں۔ اور میں نے عرض کیا : وہ ایسی عورت ہے جو ان کی نگرانی اور دیکھ بھال کرے گی اور ان کے بالوں میں کنگھی کرے گی۔ ارشاد فرمایا : تم نے درست انتخاب کیا۔ رواہ سعید بن المنصور