45633- عن جابر قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فلما قفلنا تعجلت على بعير لي قطوف 1، فلحقني راكب من خلفي فنخس بعيري بعنزة 2 كانت معه، فانطلق بعيري كأجود ما أنت راء من الإبل، فالتفت فإذا النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! هذه بركتك، قال: ما يعجلك؟ قلت: يا رسول الله! إني حديث عهد بعرس، قال: " فبكر تزوجت أو ثيب؟ قلت: بل ثيب، قال: فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك! فقال: إذا قدمت على أهلك فالكيس الكيس! فلما قدمنا ذهبنا نهارا، فقال: امهلوا حتى ندخل عشاء لكي تمشط الشعثة وتستحد المغيبة. " ص".
45633 حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم واپس لوٹنے لگے میں اپنے ایک اونٹ پر سوار ہوا اور اسے جلدی جلدی چھوٹے قدموں سے ہانکنے لگا اسی اثناء میں میرے پیچھے ایک سوار میرے قریب ہوا اور اس نے ایک چھوٹی چھڑی سے میرے اونٹ کے ماری چنانچہ میرا اونٹ تیز رفتار اونٹ کی طرح پھرتی سے چلنے لگا میں نے جو پیچھے مڑ کر دیکھا کیا دیکھتا ہوں میرے پیچھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے نئی نئی شادی کی ہوئی ہے۔ (اس لیے جلدی میں ہوں) ارشاد فرمایا : کنواری سے شادی کی ہے یاثیب سے میں نے عرض کیا : نہیں بلکہ ثیب سے ۔ فرمایا : کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی تم اس کا جی بہلاتے وہ تمہارا جی بہلاتی ۔ پھر فرمایا : جب تم اپنے اہل خانہ کے ہاں پہنچو تو عقلمندی کا مظاہرہ کرنا۔ چنانچہ ہم دن کے وقت مدینہ پہنچے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رک جاؤ حتیٰ کہ ہم عشاء کے وقت شہر میں داخل ہوں تاکہ پراگندہ بال عورت اپنے بالوں میں کنگھی کرے اور جس کا شوہر گھر پر نہیں ہے وہ موئے زیر ناف صاف کرلے۔ رواہ سعید بن المنصور