45671- "أيضا" عن بحرية ابنة هانئ قالت: تزوجت القعقاع بن شورق فسألني، وجعل لي مدهنا من جوهر على أن يبيت عندي ليلة، فبات فوضعت له تورا فيه خلوق، فأصبح وهو متضمخ بالخلوق، فقال لي: فضحتني، فقلت له: مثلي يكون سرا، فجاء أبي فاستعدى عليه عليا، فقال علي للقعقاع: أدخلت؟ قال: نعم، فأجاز النكاح. "ش".
45671” ایضاً “ بحریہ بنت ھانی کہتی ہیں ! میں نے قعقاع سے شادی کرلی، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا میرے لیے جواہر کا ایک صندوق (مہر کے طور پر) رکھا اس شرط پر کہ وہ میرے پاس ایک رات گزارے گا چنانچہ اس نے ایک رات گزاری میں نے خلوق (خوشبو) سے بھر ہوا خوشبودان اس کے پاس رکھا، چنانچہ جب وہ صبح کو اٹھا تو اس کا بدن خلوق کے رنگ سے آلوہ تھا قعقاع نے مجھ سے کہا : تو نے مجھے رسوا کردیا میں نے کہا : مجھ جیسے پوشیدہ ہی رہتی ہیں۔ جب میرے والد آئے ان پر حضرت علی (رض) غصہ ہوگئے، حضرت علی (رض) نے قعقاع سے فرمایا : کیا تو نے ہمبستری کرلی ہے ؟ جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے یہ نکاح جائز قرار دیا۔ رواہ ابن ابی شیبہ