4576- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "كنا نقول ما لمفتتن توبة، وكانوا يقولون: ما الله بقابل ممن افتتن صرفا ولا عدلا، وكانوا يقولون ذلك لأنفسهم، فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة أنزل الله تعالى فيهم وفي قولنا لهم وقولهم لأنفسهم: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ} إلى قوله {وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ} فكتبتها بيدي في صحيفة، وبعثت بها إلى هشام بن العاص". "البزار والشاشي وابن مردويه ق".
4576: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کہتے تھے : (دنیا کے) فتنے میں پڑ (کر ہجرت سے رہ جانے) والوں کے لیے کوئی توبہ نہیں۔ لوگ کہتے تھے : جو فتنے میں پڑگئے ان کی نہ نفل قبول اور نہ فرض۔ اور (ہجرت سے رہ جانے والے لوگ) یہ بات اپنے متعلق کہتے تھے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اور ہمارے ان کے متعلق کہنے کے بارے میں اور خود ان کے اپنی جان کے بارے میں کہنے سے متعلق اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :
یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ۔۔۔ سے ۔۔۔ وانتم لا تشعرون تک۔ الزمر : 53 ۔
اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے، اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمان بردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی۔ اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو، اس نہایت اچھی (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے یہ آیت ایک خط میں لکھ کر ہشام بن العاص کو روانہ کردی۔ (البزر، الشاشی، ابن مردویہ، السنن للبیہقی)
اس حدیث کی وضاحت ذیل کی حدیث کرتی ہے۔