4577- عن عمر قال: "لما اجتمعنا للهجرة اتعدت أنا وعياش بن أبي ربيعة وهشام بن العاص بن وائل، أن نهاجر إلى المدينة، فخرجت أنا وعياش وفتن هشام، فافتتن، فقدم على عياش أخواه أبو جهل والحارث بن هشام، فقالا له: إن أمك قد نذرت أن لا يظلها ظل ولا يمس رأسها غسل حتى تراك، فقلت والله إن يريداك إلا أن يفتناك عن دينك فخرجا به وفتنوه فافتتن، ونزلت فيهم: {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} إلى قوله
{مَثْوىً لِلْمُتَكَبِّرِينَ} ، فكتبت بها إلى هشام فقدم"."البزار وابن مردويه ق".
4577: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ (مدینہ منورہ) ہجرت کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے اور عیاش بن ابی ربیعہ اور ہشام بن العاص بن وائل نے پروگرام بنایا کہ ہم (ایک ساتھ) مدینہ ہجرت کریں۔ چنانچہ میں اور عیاش تو نکل پڑے جبکہ ہشام فتنہ میں پڑگئے (یعنی اپنے کسی کام سے پیچھے رہ گئے) پھر ان کو آزمائش بھی پیش آگئی وہ یوں کہ ان کے دو بھائی اور ابوجہل اور حارث ابن ہشام ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تمہاری ماں نے نذر مانی ہے کہ وہ نہ کسی سائے میں آئیں گی اور نہ سر کو دھوئیں گی جب تک کہ تم کو نہ دیکھ لیں۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ان کا مقصد صرف تم کو تمہارے دین سے فتنہ میں ڈال کر روکنا ہے۔ آخر وہ دونوں اس کو لے گئے اور اس کو اپنے فتنے میں پھنسا لیا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا :
یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ۔۔ سے ۔۔۔ مثوی للمتکبرین تک۔
میں نے یہ آیت ہشام کو لکھ بھیجیں ۔ چنانچہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے آئے۔ البزار، ابن مردویہ، السنن للبیہقی۔