45923- عن الشعبي قال: أتت امرأة عمر فقالت: يا أمير المؤمنين! ما رأيت عبدا أفضل من زوجي، إنه ليقوم الليل ما ينام ويصوم النهار ما يفطر، فقال: جزاك الله خيرا! مثلك أثنى بالخير وقاله! ثم ولت، وكان كعب بن سور حاضرا فقال: يا أمير المؤمنين! ألا أعديت المرأة إذ جاءت تستعدي؟ فقال: علي بها - مرتين، فجاءت، فقال لها عمر: اصدقيني ولا بأس بالحق! فقالت: يا أمير المؤمنين! إني امرأة لأشتهي النساء، فقال: يا كعب: اقض بينهما، فإنك قد فهمت من أمرها ما لم أفهم، فقال: يا أمير المؤمنين! يحل من النساء أربع، فلا ثلاثة أيام وثلاث ليال يتعبد فيهن ما شاء، ولها يومها وليلتها، فقال عمر: ما الحق إلا هذا! اذهب فأنت قاض على البصرة. "اليشكري في اليشكريات".
45923 شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : امیر المومنین ! میں اپنے خاوند سے افضل کسی کو نہیں سمجھتی ہوں چونکہ وہ رات بھر قیام میں رہتا ہے اور سوتا نہیں دن بھر روزہ رکھتا ہے افطار نہیں کرتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جزاک اللہ خیراتم نے اچھے انداز میں تعریف کی ۔ پھر عورت اٹھ کر چلی گئی کعب بن سور اتفاقاً وہاں موجود تھے کہنے لگے : اے امیر المومنین ! آپ اس عورت کو واپس نہیں بلاتے جب کہ ایک طرح سے وہ تیاری کرکے آئی تھی۔ فرمایا : عورت کو میرے پاس لاؤ عورت واپس لوٹ آئی۔ فرمایا : سچ سچ بات کہو اور حق واضح کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عورت بولی ! امیر المومنین ! میں ایک عورت ہوں میرا دل بھی وہ کچھ چاہتا ہے جو عام عورتیں چاہتی ہیں فرمایا : کعب ان کے درمیان تم فیصلہ کرو چونکہ یہ نکتہ تم ہی سمجھے ہو، میں نہیں سمجھ سکا ہوں۔ کعب کہنے لگے : امیر المومنین ایک مرد کے لیے چار عورتیں حلال ہیں لہٰذا اس کا شوہر تین دن اور تین رات جیسے چاہے عبادت کرے اور ایک دن ایک رات اپنی اس بیوی کے پاس گزارے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : حق یہی ہے جاؤ میں تمہیں بصرہ کا قاضی مقرر کرتا ہوں۔۔ رواہ الشکری فی الشکریات