hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 45987

.

كنز العمال

45987
Kanz al-Ummal
45975- عن يحيى بن عتبة بن عبد عن أبيه قال: دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام حدث، فقال: "ما اسمك؟ قلت: عتلة ابن عبد، قال: بل أنت عتبة بن عبد، وقال: أرني سيفك، فسله فنظر إليه، فلما رآه رأى فيه رقة وضعفا، فقال: لا تضربن بهذا ولكن اطعن به طعنا؛ وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة والنضير: من أدخل هذا الحصن سهما وجبت له الجنة، قال عتبة: فأدخلت فيه ثلاثة أسهم. "الحسن بن سفيان، وابن منده، وأبو نعيم، كر".
45975 یحییٰ بن عتبہ بن عبد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس بلایا مجھ سے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے میں نے عرض کیا : میرا نام عتلۃ بن عبد ہے فرمایا : بلکہ تمہارے نام عتبہ بن عبد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اپنی تلوار کھاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار سونتی اور اسے دیکھا آپ نے تلوار میں قدرت رقت اور کمزوری دیکھی فرمایا : اس تلوار سے ضرب نہیں لگانی البتہ کچوکا لگا سکتے ہو غزوہ بنو قریضہ ونضیر کے موقع پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اس قلعہ میں تیرداخل کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ، عتبہ (رض) کہتے ہیں میں نے اس قلعہ میں تین تیرداخل کیے۔۔ رواہ الحسن بن سفیان وابن مندہ و ابونعیم وابن عساکر