45976- "مسند عمر" عن أسلم أن عمر بن الخطاب ضرب ابنا له يكنى أبا عيسى، وأن المغيرة بن شعبة يكنى بأبي عيسى، فقال له عمر: أما يكفيك أن تكنى بأبي عبد الله؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم كناني، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر وإنا في جلجتنا! فلم يزل يكني بأبي عبد الله حتى هلك. "د، والحاكم في الكنى، ق، ص".
45976” مسند عمر “ اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ایک بیٹے کو اس وجہ سے مارا کہ وہ ابو عیسیٰ اپنی کنیت کرتے تھے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بھی ابوعیسیٰ اپنی کنیت کرتے تھے تاہم حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ اپنی کنیت رکھ لو ؟ مغیرہ (رض) نے جواب دیا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری یہ کنیت رکھی ہے عمر (رض) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں ہم تو اپنی گن گرج میں ہیں چنانچہ عمر (رض) مغیرہ بن شعبہ (رض) ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارتے رہے۔ حتیٰ کہ آپ (رض) دنیا سے رخصت ہوئے۔۔ رواہ ابوداؤد والحاکم فی الکنی والبیہقی و سعید بن المنصور