4607- عن أبي بكر قال: لما نزلت هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} قلت يا رسول الله والله لا أكلمك إلا كأخي السرار. "الحارث والبزار وضعفه عد ك وابن مردويه".
4607: ۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :
یا ایہا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول الخ۔ الحجرات : 2
اے ایمان والو ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
تو میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں آپ سے ہمیشہ ایک سرگوشی کرنے والے بھائی کی طرح بات چیت کیا کروں گا۔ (الحارث والبزار، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ)
کلام : ۔۔ ابن عدی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے کنز ج 2 ص 507 ۔