46101- عن عروة أن علي بن أبي طالب دخل على مولى له في الموت وله سبعمائة درهم فقال: ألا أوصي؟ قال: لا، إنما قال الله: {إِنْ تَرَكَ خَيْراً} وليس لك كبير مال، فدع مالك لورثتك. "عب، والفريابي، ص، ش، وعبد بن حميد، وابن جرير، وابن المنذر، وابن أبي حاتم، ك، ق".
46101 عروہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) اپنے ایک آزاد کردہ غلام کے پاس داخل ہوئے وہ اس وقت مرض الموت میں مبتلا تھا اور اس کے پاس سات سو (700) دراہم تھے اس نے عرض کیا : کیا میں اپنے مال کی وصیت نہ کروں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ” ان ترک خیرا “ اگر میت نے اپنے پیچھے (زیادہ) مال چھوڑا ہو اور تمہارے پاس زیادہ مال ہیں ہے اپنا مال ورثہ کے لیے باقی چھوڑ دو ۔ رواہ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم والبیہقی