46102- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال قال علي: مرضت مرضا فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "هل أوصيت؟ قلت: نعم، قال: كيف قلت: أوصيت بمالي كله، قال: فما تركت لورثتك؟ قلت: إنهم أغنياء، قال: أوص بالعشر واترك سائره لورثتك، قلت: يا رسول الله! إني تركت ورثتي أغنياء بخير، فما زال حتى قال: أوص بالثلث والثلث كثير." قال أبو عبد الرحمن السلمي: فمن ثم يستحبون أن يتركوا من الثلث. "أبو الشيخ في الفرائض".
46102 ابوعبدالرحمن سلمی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں بیمار پڑگیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تیمار داری کے لیے تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے وصیت کی ہے میں نے عرض کیا : جی ھاں فرمایا : تم نے کس طرح وصیت کی ہے میں نے عرض کیا کہ میں نے اپنے سارے مال کی وصیت کردی ہے فرمایا : تو نے اپنے ورثہ کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کیا : ورثہ مالدار ہیں : فرمایا مال کے دسویں حصہ کی وصیت کرو اور باقی ورثاء کے لیے چھوڑ دو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے ورثاء کو مالدار حالت میں چھوڑا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل کمی کرتے رہے حتیٰ کہ فرمایا : ایک تہائی کی وصیت کرو اور یہ بھی زیادہ ہے۔ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں اسی وجہ سے علماء تہائی مال سے بھی کچھ باقی رکھنا مستحب سمجھتے ہیں۔۔ رواہ ابوالشیخ فی الفرائض