46215- "مسند عمر" عن عمر قال: حملت على فرس في سبيل الله تعالى فأضاعه صاحبه، فأردت أن أبتاعه، فظننت أنه بائعه برخص، فقلت حتى اسأل النبي صلى الله عليه وسلم! فقال: "لا تبتعه وإن أعطاك بدرهم، فإن الذي يعود في صدقته كالكلب يعود في قيئه." "مالك ط، حم، والعدني، والحميدي، خ، م، ت، ن، وأبو عوانة، ع، والطحاوي، حب، ق".
46215” مسند عمر “ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک گھوڑا فی سبیل اللہ تعالیٰ سواری کے لیے دیا لیکن گھوڑے کے مالک نے اسے بہت دبلا کردیا میں نے اس سے گھوڑا واپس خریدنا چاہا لیکن میں نے گمان کیا کہ اسے بیچنے میں رخصت ہے حتیٰ کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا سول نہ کرلوں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑا (واپس) مت خریدو اگرچہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دیتا ہو۔ چونکہ جو شخص بطور صدقہ دی ہوئی چیز واپس لیتا ہے اس کی مثال کتے کی سی ہے جو پھر سے اپنی قے چاٹنے لگتا ہے۔ رواہ مالک واحمد بن حنبل والعدنی والحمیدی والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابوعوانۃ وابویعلی والطحاوی وابن حبان والبیہقی