46302- عن خالد بن سعيد بن العاص وكان من مهاجرة الحبشة هو وأخوه عمرو لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم تلقاهم حين دنوا منه، وذلك بعد بدر بعام، فحزنوا أن لا يكونوا شهدوا بدرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "وما تحزنون! إن للناس هجرة واحدة ولكم هجرتان: هاجرتم حين خرجتم إلى صاحب الحبشة، ثم جئتم من عند صاحب الحبشة مهاجرين إلي. " ابن منده، كر".
46302 خالد بن سعید بن عاص اور ان کے بھائی ہجرت کرکے حبشہ گئے ہوئے تھے جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس (مدینہ) لوٹے تو آپ سے ملاقات کی جب کہ جنگ بدر کو ایک سال گزر چکا تھا۔ ان حضرات نے جنگ بدر میں غیر حاضری پر غم کا اظہار کیا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں غمزدہ ہوتے ہو چونکہ لوگوں کو ایک ہجرت کا ثواب ملا ہے جب کہ تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملا ہے۔ تم نے ایک ہجرت صاحب حبشہ (نجاشی) کی طرف کی پھر تم صاحب حبشہ کے پاس سے میرے پاس ہجرت کرکے آئے ہو۔ رواہ ابن مندہ وابن عساکر