hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4659

.

كنز العمال

4659
Kanz al-Ummal
4659- وعنه أن ناسا من أهل المدينة لما نزلت هذه الآية التي في البقرة في عدة النساء قالوا لقد بقي من عدة النساء عدد لم تذكر في القرآن الصغار والكبار اللاتي قد انقطع عنهن المحيض، وذوات الحمل فأنزل الله التي في سورة النساء القصرى: {وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ} الآية. "ابن راهويه ش وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه ك ق".
4659: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب سورة بقرہ والی آیت عورتوں کی عدت کے بارے میں نازل ہوئی (جو فقط ان عورتوں کی عدت سے متعلق تھی جن کے شوہر وفات کرجائیں) تو لوگ کہنے لگے کہ کچھ عورتیں رہ گئی ہیں جن کی عدت کے بارے میں ابھی حکم نہیں نازل ہوا یعنی وہ چھوٹی عمر اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو حیض نہ آتا ہو یا منقطع ہوگیا ہو اور حمل والی عورتیں ان کی عدت کا حکم نہیں آیا۔ پس اللہ پاک نے یہ حکم نازل فرمایا :
واللاتی یئسن من المحیض من نساء کم الخ۔ الطلاق :4
اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہیں اگر تم کو (ان کی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (ان کی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا۔ (ابن راھویہ، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
فائدہ : ۔۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اور اسے طلاق ہوجائے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اور جس کو حیض نہیں آتا صغر سنی کی وجہ سے کہ ابھی آنا شروع نہیں ہوا یا کبر سنی کی وجہ سے کہ حیض کا زمانہ ختم ہوگیا ہے تو ان دونوں کی عدت طلاق کی صورت میں تین ماہ ہے۔ اور جس عورت کا شوہر وفات پاجائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اور جس عورت کے پیٹ میں بچہ ہو اس کو طلاق ہوجائے یا اس کا شوہر وفات کرجائے اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔