4704- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هل تدرون ما تفسير هذه الآية: {كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكّاً دَكّاً وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ} قال: إذا كان يوم القيامة تقاد جهنم بسبعين ألف زمام بيد سبعين ألف ملك فتشرد شردة، لولا أن الله حبسها لأحرقت السموات والأرض". "ابن مردويه".
4702: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس آیت کی تفسیر کیا ہے ؟
کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجیء یومئذ بجہنم۔ الفجر : 21 ۔ 23 ۔
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کر پست کردی جائے گی اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہوگا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آموجود ہوں گے اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ہی ارشاد فرمایا : جب قیامت کا دن ہوگا جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ ستر ہزار فرشتے کھینچ کر لائیں گے۔ پھر بھی وہ ادھر ادھر آپے سے نکل رہی ہوگی اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نہ روکا رکھا ہو تو وہ آسمانوں اور زمین ہر چیز کو جلا دے۔ رواہ ابن مردویہ)