4709- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي أسماء قال: بينما أبو بكر يتغدى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أنزلت هذه الآية: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ} فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله أكل ما عملناه من سوء رأيناه؟ فقال: " ما ترون ما تكرهون فذاك مما تجزون به، ويؤخر الخير لأهله في الآخرة". "ش وابن راهويه وعبد بن حميد ك وابن مردويه" وأورده الحافظ ابن حجر في أطرافه في مسند أبي بكر.
4709: ۔۔۔ مسند صدیق (رض)) ابو اسماء (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دوپہر کو کھانا تناول فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8
سو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔
(یہ سن کر) حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک لیے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جو برائی بھی ہم نے کی ہوگی ہم اس کو ضرور دیکھیں گے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو تم (اپنی زندگی میں) ناپسندیدہ باتیں دیکھتے ہو و (انہی برے اعمال کی) جزاء ہوتی ہیں۔ جبکہ نیکی کو صاحب نیکی کے لیے آخرت میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ ابن ابی شیبہ، ابن راھویہ، عبد بن حمید، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ) ۔
حافظ ابن حجر (رح) نے اپنی کتاب اطراف میں اس کو مسند ابی بکر کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔