4710 - عن أبي إدريس الخولاني، قال: كان أبو بكر الصديق يأكل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أنزلت هذه الآية: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً يَرَهُ} فأمسك أبو بكر يده وقال: يا رسول الله إنا لراؤن ما عملنا من خير أو شر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر أرأيت ما رأيت مما تكره فهو من مثاقيل الشر يدخر لك مثاقيل الخير، حتى توفاه يوم القيامة، وتصديق ذلك في كتاب الله تعالى: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} ". "ابن مردويه".
4710: ۔۔ ابو ادریس خولانی (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئیں :
فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ الزلزال : 7 ۔ 8 ۔
حضرت ابوبکر (رض) نے کھانے سے ہاتھ روک کر پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا جو بھی نیکی یا برائی ہم سے سرزد ہوگی ہم کو اسے دیکھنا پڑے گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے ابوبکر ! تم کو جو ناپسندیدہ امور پیش آتے ہیں وہ برائی کے بدلے ہیں اور خیر کے بدلے تمہارے لیے ذخیرہ کرلیے جاتے ہیں تم قیامت کے دن ان کو پا لوگے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ الشوری :
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔ رواہ ابن مردویہ۔