4711- عن علي رضي الله عنه في قوله تعالى: {وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحاً} قال: "هي الإبل في الحج، قيل له إن ابن عباس يقول: هي الخيل، قال: ما كان لنا خيل يوم بدر". "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه".
4711: ۔۔ حضرت علی (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان والعادیات ضبحا کے متعلق مروی ہے کہ حج میں (حاجیوں کو لے) جانے والے اونٹ مراد ہیں۔ حضرت علی (رض) کو کسی نے کہا : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اس سے مراد گھوڑے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بدر میں ہمارے پاس گھوڑے تھے۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ۔
والعادیات ضبحا۔ فالموریات قدحا فالمغیرات صبحا۔ فاثرن بہ نقعا فوسطن بہ جمعا۔ ان الانسان لربہ لکنود۔ العادیات۔ 1 ۔ 6
ان سرپٹ دوڑنے والے (گھوڑوں) کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں ، پھر پتھروں پر (نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں۔ پھر صبح کو چھاپا مارتے ہیں۔ پھر اس میں گردن اٹھاتے ہیں۔ پھر اس وقت (دشمن کی) فوج میں جا گھستے ہیں کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور نا شکرا) ہے۔
عام تراجم میں العادیات ضبحا کا معنی گھوڑوں ہی سے کیا گیا اور ما بعد کا مضمون بھی انہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ گھوروں کی قسم بھی ہوسکتی ہے۔ جن کے متعلق آیا ہے کہ قیامت تک کے لیے ان کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے اور مجاہدین کی قسم بھی ہوسکتی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں اور جن کی تعریف و توصیف کلام اللہ میں جا بجا کی گئی ہے۔