4746- عن بجالة1. قال "مر عمر بن الخطاب بغلام وهو يقرأ في المصحف "النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم، وأزواجه أمهاتهم وهو أب لهم" فقال: "ياغلام حكها" قال: "هذا مصحف أبي، فذهب إليه فسأله؟ " فقال: "إنه كان يلهيني القرآن ويلهيك الصفق بالأسواق". "ص ك".
4746: ۔۔ حضرت بجالہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کا ایک نوجوان پر گذر ہوا وہ قرآن دیکھ کر پڑھ رہا تھا :
النبی اولی بالمومنین من انفسہم وازواجہ امہاتہم وھو اب لھم۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مومنین کے والی ہیں ان کی جانوں سے زیاہ اور آپ کی بیویاں مومنین کی باتیں ہیں اور آپ ان کے باپ ہیں۔
حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! اس کو کھرچ دے۔ لڑکا بولا : یہ ابی (رض) کا مصحف (قرآن) شریف ہے۔ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! اس کو کھرچ دے۔ لڑکا بولا : یہ ابی (رض) کا مصحف (قرآن) شریف ہے۔ حضرت عمر (رض) حضرت ابی (رض) کے پاس گئے اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا انھوں نے عرض کیا : مجھے تو قرآن میں مشغول رکھتا تھا اور آپ کو بازاروں میں تالے پیٹنے سے فرصت نہ تھی۔ (السنن لسعید بن منصور، مستدرک الحاکم)
فائدہ : ۔۔ وھو اب لھم۔ یہ منسوخ التلاوت آیت ہے۔ حضرت ابی (رض) بھی اکابر صحابہ میں شامل تھے۔ ان کا حضرت عمر (رض) کو یہ الفاظ کہنا آپس کی بےتکلفی کی وجہ سے تھا۔ آپ کے کہنے کا مقصد تھا کہ دور نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اکثر اوقات گذارتا تھا جبکہ آپ دنیا کے کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ درحقیقت حضرت عمر (رض) نے اپنے ایک انصاری پڑوسی کے ساتھ باری طے کرلی تھی ایک دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں انصاری حاضر ہوتا تھا دوسرے دن حضرت عمر (رض) حاضری کا شرف حاصل کرتے تھے۔ (رض) اجمعین۔