hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4924

.

كنز العمال

4924
Kanz al-Ummal
4924- عن أوسط قال خطبنا أبو بكر الصديق، فقال: "قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقامي هذا عام الأول، فقال: "سلوا الله المعافاة، أو قال العافية، فإنه لم يعط أحد قط بعد اليقين أفضل من العافية أو المعافاة، وعليكم بالصدق فإنه مع البر، وهما في الجنة، وإياكم والكذب، فإنه مع الفجور، وهما في النار، لا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تقاطعوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا، كما أمركم الله". "حم ن هـ حب ك".
4924: ۔۔ اوسط (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی الل عنہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : پہلے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری اس جگہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ اور ارشاد فرمایا : اللہ سے معافاۃ یا فرمایا عافیت کا سوال کرو۔ بیشک یقین کے بعد معافاۃ یا عافیت سے بڑھ کر کوئی افضل شی کسی کو نہیں دی گئی۔ تم پر سچائی لازم ہے کیونکہ سچائی نیکی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جنت میں جائیں گی۔ جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ بدی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی۔ آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو، بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی نہ کرو۔ اور اللہ کے بندو ! تم بھائی بھائی بن جاؤ جیسا کہ اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، مستدرک الحاکم)
فائدہ : ۔۔ عافیت اور معافاۃ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے دنیا و آخرت میں ہر طرح کی تکلیف اور پریشانی سے نجات۔