4936- "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو قاعد فصلى ركعتين، فقال: اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا، فالتفت إليه النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "لقد تحجرت واسعا"، فلم يلبث الأعرابي أن تنحى، فبال في ناحية المسجد، فعجل إليه أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " صبوا عليه ذنوبا1 من ماء أو سجلا، إنما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين". "ص"
4936: ۔۔۔ ( ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے۔ اعرابی نے دو رکعت نما زپڑھی پھر دعا کی :
اے اللہ ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی کو اپنی رحمت میں شریک نہ کر۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرح متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم نے ایک وسیع شے کو تنگ کردیا ہے۔ پھر اعرابی اسی وقت وہاں سے ہٹ کر مسجد کے کونے میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس کی طرف کو لپکے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔ تم کو آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے نہ کہ مشکل پیدا کرنے والا۔ (السنن لسعید بن منصور)