4963- عن عاصم بن ضمرة1 عن علي أنه كان يقول في دبر كل صلاة: "اللهم تم نورك فهديت، فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت، فلك الحمد وبسطت يدك، فأعطيت فلك الحمد، ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه، وعطيتك أنفع العطايا وأهنأها، تطاع ربنا فتشكر، وتعصى ربنا فتغفر، لمن شئت، تجيب المضطر إذا دعاك وتغفر الذنب، وتقبل التوبة، وتكشف الضر، ولا يجزي آلاءك أحد ولا يحصي نعماءك قول قائل". "جعفر في الذكر وأبو القاسم إسماعيل بن محمد بن فضل في أماليه".
4963: عاصم بن خمرہ سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے :
اللهم تم نورک فهديث ، فلک الحمد ، وعظم حلمک فعفوت ، فلک الحمد وبسطت يدك ، فاعطيت فلک الحمد ، ربنا وجهك أكرم الوجوه ، وجاهك خير الجاه ، وعطيتك أنفع العطايا وأهناها ، تطاع ربنا فتشکر ، وتعصی ربنا فتغفر ، لمن شئت ، تجيب المضطر إذا دعاک وتغفر الذنب ، وتقبل التوبة ، وتکشف الضر ، ولا يجزي آلاءک أحد ولا يحصی نعماءک قول قائل۔
اے اللہ ! تیرا نور کامل ہے، جس کے ساتھ تو نے سیدھی راہ دکھائی، پس تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں، تیری بردباری عظیم ہے جس کے ساتھ تو نے مغفرت فرمائی، پس تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تو نے اپنا دس کرم دراز کیا اور خوب عطا کیا، پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ اے ہمارے رب ! تیری ذات سب سے زیادہ کریم ذات ہے، تیرا رتبہ سب سے بلند رتبہ ہے، تیری عطا سب عطاؤں سے زیادہ نفع مدن ہے اور خوشگوار ہے۔ اے رب ! تیری اطاعت کی جاتی ہے تو تو قدر کرتا ہے، تیری نافرمانی کی جاتی ہے تو تو جس کی چاہے مغفرت کرتا ہے۔ مضطر (پریشان حال) جب تجھے پکارتا ہے تو تو اس کی پکار سنتا ہے اور تو گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ تو توبہ قبول فرماتا ہے، اور ہر طرح کی مشکل تو ہی دور کرتا ہے اور تیری نعمتوں کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتا اور کسی کی گفتگو تیری نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتی۔ جعفر فی الذکر، ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن فضل فی امالیہ۔