hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4964

.

كنز العمال

4964
Kanz al-Ummal
4964- عن محمد بن يحيى قال: "بينما علي بن أبي طالب يطوف بالكعبة إذا هو برجل متعلق بأستار الكعبة، وهو يقول: يا من لا يشغله سمع عن سمع، ويا من لا يغلطه السائلون، يا من لا يتبرم بإلحاح الملحين أذقني برد عفوك، وحلاوة رحمتك، فقال له علي: يا عبد الله دعاؤك هذا؟ قال وقد سمعته؟ قال نعم، قال: فادع به في دبر كل صلاة، فوالذي نفس الخضر بيده لو كان عليك من الذنوب عدد نجوم السماء ومطرها، وحصباء الأرض وترابها لغفر لك أسرع من طرفة عين". "الدينوري كر".
4964: ۔۔ محمد بن یحییٰ (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کعبۃ اللہ کا طواف فرما رہے تھے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا پردہ تھامے ہوئے یوں دعا کررہا ہے :
یا من لا شغلہ سمع عن سمع، ویا من لا یغلطہ السائلون یا من لا یتبرم بالحاح الملحین اذقنی برد عفوک وحلاوۃ رحمتک۔
اے وہ ذات جس کو ایک کا سننا دوسرے کے سننے سے نہیں روکتا، اے وہ ذات جس کو سائلین کی کثرت غلطی میں نہیں ڈالتی، اے وہ ذات جو مانگنے والوں کے اصرار سے اکتاتا نہیں (بلکہ خوش ہوتا ہے) مجھے اپنی معافی کی ٹھنڈک اور اپنی رحمت کی مٹھاس چکھا دے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے اللہ کے بندے یہ تیری دعا (کیا عمدہ) ہے ! اس شخص نے پوچھا : کیا تو نے سن لی ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ اس شخص نے کہا : پس ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھ لیا کر۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں خضر کی جان ہے، اگر تجھ پر آسمان کے تاروں اور اس کی بارش کے (قطرو) زمین کی کنکریوں اور اس کی مٹی کے بقدر بھی گناہ ہوں گے تب بھی پلک جھپکنے سے قبل معاف کردیے جائیں گے (الدینور، ابن عساکر)