5083- عن عمران بن حصين قال: "جاء حصين إلى النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يسلم، فقال: يا محمد ما تأمرني أن أقول؟ قال تقول: اللهم إني أعوذ بك من شر نفسي، وأسألك أن تعزم لي على أرشد أمري، ثم أن حصينا أسلم بعد، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني كنت سألتك المرة الأولى وإني الآن أقول: ما تأمرني أن أقول؟ قال قل: اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت وما أخطأت وما عمدت وما جهلت وما علمت ". "ش".
5083: ۔۔ عمران بن حصین سے مروی ہے کہ حضرت حصین ایمان لانے سے قبل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور بولے : اے محمد ! آپ مجھے پڑھنے کے لیے کیا بتاتے ہو ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یہ پڑھو :
اللھم انی اعوذبک من شر نفسی واسالک ان تعزم لی علی ارشد امری۔
اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے سیدھی راہ پر پختہ کردے۔
اس کے بعد حضرت حصین (رض) اسلام لے آئے اور پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : میں نے پہلے بھی آپ سے سوال کیا تھا اور اب دوبارہ پوچھتا ہوں کہ آپ مجھے پڑھنے کے لیے کیا دعا ارشاد فرمائیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کہو :
اللہم اعفر لی ما اسررت و ما اعلنت و ما اخطات وما حمدت وما جھلت و ما علمت۔
اے اللہ ! مجھے (میرے سب گناہ) بخش دے جو میں نے پوشیدہ کیے ہوں یا اعلانیہ کیے ہوں، بھوک چوک سے کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور جو میرے علم میں نہ ہوں یا میں ان کو جانتا ہوں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔