520 – " إذا مر بالنطفة ثنتان وأربعون ليلة، بعث الله إليها ملكافصورها وخلق سمعها وبصرها وجلدها ولحمها وعظمها، ثم قال يا رب أذكر أم أنثى، فيقضي ربك ما شاء، ويكتب الملك، ثم يقول يا رب أجله، فيقول ربك ما شاء، ويكتب الملك، ثم يقول يا رب رزقه، فيقضي ربك ما شاء ويكتب الملك، ثم يخرج الملك بالصحيفة في يده ولا يزيد على ما أمر ولاينقص". (م عن حذيفة بن أسيد) .
٥٢٠۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ پر بیالیس راتیں بیت جاتی ہیں اللہ عزوجل اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتے ہیں وہ اس کی صورت تشکیل دیتا ہے اس کے کان آنکھیں ، جلد، گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے ، پھر وہ فرشتہ بارگاہ خداوندی سے دریافت کرتا ہے اے اللہ یہ جان مذکر ہے یامونث پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کی زندگی کتنی ہے پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار رزق کتنا ہے پھر اللہ اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں اور وہ فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور پھر فرشتہ اس صحیفہ کو ہاتھ میں لیے نکلتا ہے اور اس حکم الٰہی میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا۔ الصحیح امام مسلم، براویت حذیفہ بن اسید۔