521 – "إن النطفة تقع في الرحم أربعين ليلة ثم يتصور عليها الملك الذي يخلقها فيقول يا رب أذكر أم أنثى، فيجعله الله ذكرا أو أنثى، ثم يقول يا رب أسوي أم غير سوي فيجعله الله سويا أو غير سوي، ثم يقول يا رب ما رزقه ما أجله ما خلقه ثم يجعله الله شقيا أو سعيدا". (م عن حذيفة بن أسيد) .
٥٢١۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ پر چالیس راتیں گذرجاتی ہیں تو ایک فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے اور بارگاہ الٰہی میں پوچھتا ہے اے اللہ عزوجل یہ جان مذکر ہے یامونث ؟ پھر اللہ مشیت کے مطابق اس کو مذکر یامونث کردیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو درست اور صحیح سالم پیدا کرنا ہے یا کچھ تبدیلی کرنا ہے ؟ پروردگار اس کے متعلق بھی فیصلہ فرما دیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے اس کی زندگی کتنی ہے اس کا رزق کتنا ہے اس کے اوصاف کیسے ہوں گے ؟ پھر اللہ عزوجل اپنی مشیت کے مطابق اس کو نیک بخت ، یا بدبخت پیدا فرماتے ہیں۔ الصحیح لامام مسلم ، بروایت حذیفہ بن اسید۔