5527- إن أول ما دخل النقص على بني إسرائيل كان الرجل يلقى الرجل فيقول يا هذا اتق الله ودع ما تصنع، فإنه لا يحل لك، ثم يلقاه من الغد فلا يمنعه، ذلك أن يكون أكيله وشريبه وقعيده، فلما فعلوا ذلك ضرب الله قلوب بعضهم ببعض، كلا والله لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذن على أيدي الظالم ولتأطرنه على الحق أطرا أو ليضربن الله بقلوب بعضكم على بعض، ثم يلعنكم كما لعنهم.
"د عن ابن مسعود"2
__________
2 ورواه الترمذي كتاب التفسير رقم "3051" عن أبي عبيدة. وتحفة الأحوذي "7/414". ص
٥٥٢٧۔۔۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلے فساد اس طرح شروع ہوا کہ جب کوئی شخص کسی سے ملتا (اور اسے برائی میں مبتلا دیکھتا) تو اسے کہتا اے فلاں اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جو کام تو کررہا ہے اس سے باز رہ، یہ تیرے لیے حلال نہیں، پھر دوسرے دن اس سے ملتا اور اسے منع نہ کرتا، کیونکہ وہ اس کے ساتھ کھانے پینے اور مجلس میں شریک ہوتا، جب انھوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے بعض کے دل بعض کی وجہ سے مہر زدہ کر دئیے۔
ایسا ہرگز نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی قسم یا تو تم لازماً نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے، ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور اسے ضرور موڑو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دل (بھی) بعض کی وجہ سے مہر زدہ کر دے گا، اور تم پر بھی ایسے لعنت کرے گا جیسے ان لوگوں پر کی۔ (ابو داؤد عن ابن مسعود)