5528- لما وقعت بنو إسرائيل في المعاصي، فنهتهم علماؤهم فلم ينتهوا فجالسوهم في مجالسهم، وآكلوهم وشاربوهم، فضرب الله قلوب بعضهم ببعض، ولعنهم على لسان داود وعيسى ابن مريم، ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون، لا والذي نفسي بيده حتى تأطروهم على الحق أطرا. "حم ت عن ابن مسعود"1.
__________
1رواه الترمذي برقم "3050" وقال: هذا حديث حسن غريب.
تأطروهم: بهمزة ساكنة وبكسر الطاء: أي تعطفوه عليه.
وقال في تحفة الأحوذي "7/413": أخرجه أحمد وأبو داود وابن ماجه
قال المنذري: وأبو عبيدة بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه فهو منقطع. وفي مسند أحمد "1/391". ص.
٥٥٢٨۔۔۔ بنی اسرائیل جب گناہوں میں گھر گئے تو ان کے علماء انھیں منع کرتے مگر وہ باز نہ آتے پھر یہ علماء بھی ان کی مجالس میں بیٹھتے ان کے کھانے پینے میں شریک ہوتے، تو اللہ تعالیٰ نے بعض کے دل بعض کی وجہ سے مہر زدہ کر دئیے ، اور حضرت داؤد اور عیسیٰ (علیہما السلام) کی زبانی ان پر لعنت کی، یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب تک کہ تم لوگوں کو حق بات پر اچھے طریقے سے موڑ نہیں دیتے۔ (مسند احمد، ترمذی عن ابن مسعود)