5598- من أرعب صاحب بدعة ملأ قلبه أمنا وإيمانا، ومن انتهر صاحب بدعة آمنه الله من الفزع الأكبر، ومن أهان صاحب بدعة رفعه الله في الجنة درجة، ومن لان له لقيه تبشبشا فقد استخف بما أنزل على محمد. "ابن عساكر عن ابن عمر".
٥٥٩٨۔۔۔ جس نے کسی بدعت (پردوام) والے شخص کو ڈرایا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان و امن سے بھر دے گا، اور جس نے کسی بدعت والے کو دھمکایا تو اللہ تعالیٰ اسے بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا، اور جس نے کسی بدعتی کو توہین کی تو اللہ تعالیٰ اس کا جنت میں درجہ بلند فرمائے گا، اور جو اسے اس طرح ملا کہ اس سے بشاشت کا اظہار کیا تو گویا اس نے اس کی توہین کی جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔ (ابن عساکر عن ابن عمر)
تشریح : ۔۔۔ انجانے میں شرک میں مبتلا شخص بھی مشرک نہیں کہلاتا چہ جائیکہ بدعت میں مبتلا !