574 – " إن الله تعال قد وكل بالرحم ملكا يقول أي رب نطفة أي رب علقة أي رب مضغة فإذا أراد الله أن يقضي قال أي رب أشقي أم سعيد ذكر أم أنثى فما الرزق فما الأجل فيكتب كذلك في بطن أمه". (ط حم خ م وأبوعوانة عن عبد الله بن أبي بكر بن أنس عن جده عن حذيفة بن أسيد) .
٥٧٤۔۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو رحم میں پیدا ہونے والی جان پر وکیل بنایا ہے۔ وہ فرشتہ پھر بارگاہ خداوندی میں ہر مرحلہ کی تبدیلی پر عرض کرتا ہے اے پروردگار وہ نطفہ کی شکل میں ہے۔ اے پروردگار اس نطفہ نے اب منجمد خون کی شکل اختیار کرلی ہے، اے پروردگار اس نے اب لوتھڑے کی شکل اختیار کرلی ہے، پس جب اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمانا چاہتے ہیں تو فرشتہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتا ہے اے پروردگار یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ اے پروردگار یہ مذکر ہوگا یامونث ؟ اے پروردگار اس کا رزق کتنا ہوگا ؟ اے پروردگار اس کی عمر کتنی ہوگی، پھر فرشتہ حکم خداوندی کے مطابق مادر رحم میں ہی یہ چیزیں لکھ لیتا ہے۔ ابوداؤد الطیالسی ، مسند امام احمد، بخاری، الصحیح لامام مسلم (رح) علیہ، ابوعوانہ ، عن عبداللہ ابی بکر بن انس عن جدہ عن حذیفہ بن اسید۔