575 – "إن النطفة إذا استقرت في الرحم فمضى لها أربعون يوما جاء ملك الرحم فصور عظمه ولحمه ودمه وشعره وبشره وسمعه وبصره فيقول: يا رب أذكر أم أنثى، أشقي أم سعيد، فيقول الله عز وجل ما شاء فيكتب ثم تطوى الصحيفة فلا تنشر إلى يوم القيامة". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
٥٧٥۔۔ جب نطفہ مادر میں استقرار پکڑ لیتا ہے اور اس پر چالیس یوم گزرجاتے ہیں تو رحم کافرشتہ آتا ہے اور اس کی ہڈیاں ، گوشت خون، بال ، کھال ، کان اور آنکھ وغیرہ سب چیزوں کی صورت بناتا ہے ، فرشتہ پھر بارگاہ خداوندی میں، کرتا ہے ! اے پروردگار یہ مذکر ہوگا یامونث ؟ یہ شقی ہوگا یاسعید ؟ تو پروردگار اپنی مشیت کے مطابق جو چاہتے ہیں فرما دیتے ہیں اور فرشتہ اس کو لکھ لیتا ہے اور اس صحیفہ کو ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیتا ہے آئندہ قیامت تک اس کو کھولا نہیں جائے گا۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت حذیفہ بن اسید۔