5754- إن الله إذا أراد أن يهلك عبدا نزع منه الحياء، فإذا نزع منه الحياء لم تلقه إلا مقيتا ممقتا، فإذا لم تلقه إلا مقيتا ممقتا نزعت منه الأمانة فإذا نزعت منه الأمانة لم تلقه إلا خائنا مخونا نزعت منه الرحمة فإذا نزعت منه الرحمة لم تلقه إلا رحيما ملعنا نزعت منه ربقة الإسلام. "هـ عن ابن عمر".
٥٧٥٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کی ہلاکت کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس سے حیا چھین لیتے ہیں جب اس سے حیا چھین لی جائے تو اسے ناپسندیدہ اور مبغوض ملے گا، اور جب تو اسے اس حالت میں ملے کہ وہ تجھے مبغوض و ناپسندیدہ ہو تو اس سے امانت چھین لی جائے گی، اور جب اس سے امانت چھین لی جائے تو اس سے اس حالت میں ملے کہ وہ خائن ہے اور اس سے خیانت کی جاتی ہے تو اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے اور جب رحمت چھین لی جائے تو اسے اس حال میں ملے گا کہ وہ مردود اور ملعون ہوگا تو اس کے گلے سے اسلام کا قلادہ (ہار) پھین لیا جائے گا۔ (ابن ماجہ عن ابن عمر)