6284- من نظر في الدنيا إلى من فوقه وفي الدين إلى من تحته لم يكتبه الله صابرا ولا شاكرا، ومن نظر في الدنيا إلى من تحته، وفي الدين إلى من فوقه كتبه الله صابرا شاكرا. "حل هب عن أنس"
٦٢٨٤۔۔۔ جس نے دنیا میں اپنے سے بلند شان کو اور دین کے بارے میں اپنے سے کم (اعمال والے) کو دیکھا ، اسے اللہ تعالیٰ نہ صابر لکھے گا نہ شاکر، اور جس نے دنیا میں اپنے سے کم درجہ کو اور دین کے معاملہ میں اپنے سے اعلیٰ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ اسے صابر شاکر لکھیں گے۔ (حلیۃ الاولیاء، بیہقی فی شعب الایمان عن انس)
تشریح :۔۔۔ پہلے شخص کو شکر گزار نہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جب اپنے سے ا علیٰ شخص کو دیکھا تو اس کے جسم پر جو نعمت موجود تھی اسے حقیر سمجھا اور کہا : مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہی کیا ہے کہ میں شکر بجالاؤں، اور دین میں معاملہ میں اپنے سے کم اعمال والے کو دیکھا تو مزید اعمال نفل و مستحبات ادا کرنے کی توفیق اس لیے نہ ہوئی کہ ہم جو فرض ادا کر رہے ہیں یہی کافی ہیں فلاں تو فرض بھی ادا نہیں کرتا مزید تفصیل ” فطرتی و نفسیاتی باتوں “ میں دیکھیں۔