7951- يا أيها الناس لا تسألوا نبيكم عن الآيات، هؤلاء قوم صالح سألوا نبيهم أن يبعث لهم آية، فبعث الله لهم الناقة، فكانت ترد من هذا الفج فتشرب ماءهم يوم وردها، ويشربون من لبنها مثل ما كانوا يتروون من مائهم، {فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ} {فَعَقَرُوهَا} ، فوعدهم الله ثلاثة أيام وكان موعدا من الله غير مكذوب، ثم جاءتهم الصيحة فأهلك الله من كان تحت مشارق الأرض ومغاربها إلا رجلا واحدا كان في حرم الله فمنعه حرم الله من عذاب الله، أبو رغال. "ك" عن جابر.
٧٩٥١۔۔۔ اے لوگو ! اپنے نبی سے نشانیاں طلب نہ کرو، (دیکھو ! ) اس صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے نبی سے سوال کیا کہ ان کے لیے کوئی نشانی لائیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیجی ، وہ اس درے سے آتی اور جس دن اس کا پانی پینے کا دن ہوتا، پانی پیتی، اور وہ لوگ اس کے دودھ سے ایسے سیراب ہوتے جیسے وہ پانی سے سیراب ہوتے، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے تین دن کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ چھوٹا نہ تھا، پھر انھیں ایک چیخ سنائی دی یوں اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ہلاک کردیاجو۔ وہاں مشرق ومغرب میں رہتے تھے صرف ایک شخص شخص کو باقی چھوڑا وہ اللہ تعالیٰ کے جرم میں تھا، اللہ تعالیٰ کے حرم نے اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رکھا (اس کا نام) ابورغال تھا۔ (حاکم عن جابر)