7950- لا تسألوا نبيكم الآيات، فقد سألها قوم صالح فكانت الناقة ترد من هذا الفج، وتصدر من هذا الفج: {فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ} {فَعَقَرُوهَا} فأخذتهم الصيحة، فأهمد الله من تحت أديم السماء منهم، إلا رجلا واحدا كان في حرم الله تعالى، قالوا: من هو يا رسول الله؟ قال: أبو رغال، فلما خرج من الحرم أصابه ما أصاب قومه. "حم حب ك طس" وابن مردويه "ص" عن جابر.
٧٩٥٠۔۔۔ اپنے نبی سے نشانیاں طلب نہ کرو، کیونکہ صالح (علیہ السلام) کی قوم یہ نشانی طلب کی ، تو اس درے سے اونٹنی گھاٹ پر آتی اور اس درے سے واپس ہوتی، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس (اونٹنی) کے پاؤں کاٹ ڈالے تو انھیں ایک چیخ نے آپکڑا، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمان کے نیچے ہلاک کردیا، صرف ایک آدمی بچا، جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا، لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ آپ نے فرمایا : ابورغال ، چنانچہ جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی وہ عذاب پہنچا جو دوسروں کو پہنچا تھا۔ (مسند احمد، ابن حبان، حاکم ، طبرانی فی الاوسط وابن مردویہ، سعید بن منصورعن جابر)
تشریح :۔۔۔ یہود کے ورغلانے پر چند ایک مسلمانوں نے تنگ آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔