8620- عن عروة بن رويم أن عبد الرحمن بن قرط صعد منبره، فرأى الزعفران في أهل اليمن، والعصفر في قضاعة، فقال: يا لك فضلا يا لك كرامة، ما أظهرك، يا لك نعمة ما أسبغك، اعلموا أيها الناس إنه ما ظعن عن جاره قوم ظاعن قط أشد عليهم من نعمة الله لا يطيقون ردها، وإنه قامت النعمة على المنعم عليه بالشكر للمنعم لله رب العالمين. "كر".
٨٦٢٠۔۔۔ عروہ بن رویم سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن فرط اپنے منبر پر چڑھے تو یمنی لوگوں پر زعفران ، اور قضاعہ والوں پر زردرنگ دیکھا تو کہا : تیری فضیلت و کرامت تو کسی قدر ظاہر ہے تیری کتنی وسعت ہے تو کیسی نعمت ہے، لوگو ! جان لو ! کوچ کرنے والے کی قوم نے کسی وقت اپنے پڑوسی سے کوچ کیا تو وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت سے زیادہ سخت ہے وہ اسے لوٹا نہیں سکتے انعام کرنے رب العالمین کے شکر کرنے کی وجہ سے نعمت، جس پر نعمت کی جائے قائم رہتی ہے۔ (ابن عساکر)