hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8658

.

كنز العمال

8658
Kanz al-Ummal
8658- عن علي قال: نزل جبريل عليه السلام، على النبي صلى الله عليه وسلم يعلمه السلام على الناس والصلاة على الجنازة، فقال: يا محمد إن الله عز وجل فرض الصلاة على عباده خمس صلوات، في كل يوم وليلة، فإن مرض الرجل فلم يقدر يصلي قائما صلى جالسا، فإن ضعف عن ذلك جاءه وليه فقال له: يكبر عن وقت كل صلاة خمس تكبيرات، فإذا مات صلى عليه وليه وكبر عليه خمس تكبيرات، مكان كل صلاة تكبيرة حتى يوفيه صلاة يومه وليلته. ثم غدا به يعلمه السلام على الناس، فجعل يمر به على المجالس، فيقول له: يا محمد قل السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فإذا قال، قال: قولوا وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته، قال: يا محمد قد ربحوا علينا فضل البركة، وإذا قالوا: وعليكم السلام، قال: يا محمد نحن وهم على سواء من الأجر، قال: فاستقبله رجل ذلك اليوم، فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل يا محمد لا ترد عليه، فلما كان في اليوم الثاني استقبله فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل: لا ترد عليه، فلما كان في اليوم الثالث لقيه، فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل رد عليه، فلما رد عليه السلام، التفت إلى جبريل، فقال له: أمرتني في اليومين أن لا أرد عليه. وأمرتني هذه الساعة أن أرد عليه؟ قال نعم يا محمد إنه حم في هذه الليلة حمى شديدة، فأصبح مكفرا عنه، فأمرتك برد السلام عليه. أبو الحسن بن معروف في فضائل بني هاشم، وفيه عبد الصمد بن علي الهاشمي الأمير ضعفوه.
٨٦٥٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل آپ کو لوگوں کو سلام کرنے اور نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ سکھانے آئے، اور کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر روزانہ پانچ نمازیں فرمض کی ہیں ، اگر کوئی شخص بیمار ہوا اور کھٹرے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر اس سے بھی عاجر ہو تو اس کا نگہبان وذمہ دار آئے اور پانچ وقت کی نمازوں کی پانچ تکبیریں کہا کرے، جب وہ مرجائے تو اس کا ذمہ دار اس کی نماز جنازہ پڑھے جس میں پانچ تکبیریں کہے ہر نماز کی جگہ ایک تکبیر یہاں تک کہ اس روز اور رات کی نمازیں پوری ہوجائیں۔
پھر دوسرے دن آپ کو لوگوں سے سلام کرنے کا طریقہ سکھانے لگے، وہ آپ کو مجلسوں کے پاس لے جاکر پھرتے رہے وہ کہتے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہو : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے جب یہ کہا تو کہا وہ لوگ کہیں، وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھوں نے ہم سے برکت میں فضیلت حاصل کرلی ہے، جب انھوں نے وعلیکم السلام کہا تو ہم اور وہ اجر میں برابر تھے۔
اسی دن سامنے سے آکر ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا۔ تو جبرائیل نے آپ سے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جواب نہ دو ، دوسرے دن پھر اس نے سلام کیا، تو جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب نہ دو ، تیسرے دن جب اس نے آپ کو سلام کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے جواب دو ۔ آپ اسے سلام کا جواب دے کر جبرائیل کی طرف متوجہ ہوئے کہا : پہلے دو دونوں میں تم نے مجھے اسے سلام کا جواب نہ دینے کا حکم دیا اور اس وقت اسے سلام کا جواب دینے کو کہا اس کی کیا وجہ ہے ؟
جبرائیل نے کہا : جی ہاں اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج کی رات اسے سخت بخار ہوا تھا اور صبح اس کے تمام گناہ جھڑ گئے اس واسطے میں نے آپ کو اسے سلام کا جواب دینے کو کہا ہے۔ (ابوالحسن بن معروف فی فضائل نبی ہاشم وفیہ عبدالصمد بن علی العاشمی الامیر ضعفواہ)
تشریح :۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔