8675- عن بريدة قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، إذ بلغه وفاة ابن امرأة من الأنصار، فقام وقمنا معه، فلما رآها قال: ما هذا الجزع؟ قالت: يا رسول الله وما لي لا أجزع؟ وأنا رقوب لا يعيش لي ولد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الرقوب الذي لا يموت ولدها، أما تحبين أن تريه على باب الجنة، وهو يدعوك إليها؟ قالت: بلى، قال: فإنه كذلك. "هب".
٨٦٧٥۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ آپ کو ایک انصاری عورت کے بیٹے کی وفات کی اطلاع ملی، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں ایسا شخص تھا کہ جس کے بچے زندہ نہ رہتے تھے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مصیبت زدوہ تو وہ شخص ہے جس کا کوئی بچہ نہ مرا ہو، کیا تم یہ نہیں چاہتی کہ اسے جنت کے دروازے پر دیکھو اور تمہیں بلارہا ہو، اس عورت نے کہا : کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا : وہ اسی طرح ہوگا۔ (بیھقی الشعب)