hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8677

.

كنز العمال

8677
Kanz al-Ummal
8677- "ثابت بن قيس بن شماس"1 عن عبد الخير بن قيس بن شماس عن أبيه عن جده قال: استشهد شاب من الأنصار يوم قريظة يقال له: خلاد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما إن له أجر شهيدين، قالوا: لم يا رسول الله؟ قال: لأن أهل الكتاب قتلوه، ودعيت أمه فجاءت متنقبة فقيل لها: تنقبين وقد قتل خلاد؟ فقالت: لئن رزئت خلادا اليوم فلا أرزأ حيائي. أبو نعيم.
٨٦٧٧۔۔۔ (ثابت بن قیس بن شماس) عبد الخیربن قیس بن شماس اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں ، فرمایا : قریظہ کے دن ایک انصاری نوجوان شہید ہوا جسے خلاد کہا جاتا تھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے دوشہیدوں کا ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ اہل کتاب نے اسے شہید کیا ہے، اس کی والدہ بلایا گیا تو وہ نقاب کرکے آئیں ، کسی نے کہا : آپ نے نقاب اوڑھی ہوئی ہے جبکہ خلاد شہید ہوچکا ہے ؟ تو وہ بولیں : مجھے اگرچہ آج خلاد کی مصیبت پہنچی ہے لیکن میری حیا کو تو کوئی مصیبت نہیں پہنچی ۔ (ابونعیم)
تشریح :۔۔۔ یہ خلادبن سوید بن غفلہ بن ثعلبہ انصاری خزرجی صحابی ہیں ، ایک یہودی عورت نے ان پر چکی کا پاٹ پھینکاجس سے ان کا سر پھٹ گیا اور وہ شہید ہوگئے۔ دیکھیں ” صفات صحابہ “ مطبوعہ نور محمد کراچی اور ثابت بن قیس بن شماس انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطیب ہونے کا لقب حاصل ہے۔