8722- عن زريق المجاشعي قال: كان عامر بن عبد قيس يأتي الحسن فيجلس إليه، ثم تركه فجاءه الحسن يوما وأصحابه فدخلوا عليه، فقال الحسن: يا أبا عبد الله لم تركت مجلسنا؟ أرابك منا شيء، فنعتبك؟ قال: لا ولكني سمعت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولون: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أطولكم حزنا في الدنيا أطولكم فرحا في الأخرة، وإن أكثركم شبعا في الدنيا أكثركم جوعا في الآخرة، فوجدت البيت أحلى لقلبي، وأقدر لي على ما أريد مني، فخرج وهو يقول: هو والله أفقه منا. "كر".
٨٧٢٢۔۔۔ زریق مجاشعی سے روایت ہے فرمایا : عامر بن عبدقیس (رض) آتے اور حسن بصری کے پاس بیٹھتے ، پھر کچھ دن ان کی مجلس میں نہیں آئے ، کسی دن حسن بصری اور ان کے احباب ان کے پاس گئے، حضرت بصری نے کہا : ابو عبداللہ ! آپ نے ہماری مجلس کیوں چھوڑ دی ؟ کیا آپ کو ہمارے بارے کوئی شک گزرا تو ہم آپ کا اتباع کریں۔
آپ نے فرمایا : ایسی بات نہیں لیکن میں نے صحابہ رسول سے سنا ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے
فرمایا : تم میں سے جس کا دنیا میں غم زائد ہوگا وہ آخرت میں زیادہ خوش ہوگا، اور جو تم میں کا دنیا میں زیادہ سیر ہوگا وہ آخرت میں زیادہ بھوکا ہوگا، تو میں نے اپنے گھر والوں کو اپنے دل کے لیے مناسب پایا ، اور جو میں چاہتا ہون اس پر زیادہ قدرت دینے والا ، تو حسن بصری وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے : اللہ کی قسم ! یہ ہم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ (ابن عساکر)