8723- عن الحسن البصري قال: كان لعامر بن عبد قيس مجلس في المسجد الجامع، فكنا نجتمع إليه، ففقدناه أياما فأتيناه: يا أبا عبد الله تركت أصحابك وجلست ههنا وحدك؟ فقال: إنه مجلس كثير الأغاليط والتخاليط، وإني لقيت ناسا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فأخبروني أن أنقص الناس إيمانا يوم القيامة أكثرهم لحما في الدنيا، وأخبروني أن الله فرض فرائض، وسن سننا، وحد حدودا، فمن عمل بفرائض الله وسننه واجتنب حدوده أدخله الله الجنة بغير حساب، ومن عمل بفرائض الله وسننه وارتكب حدوده ثم تاب، ثم ارتكب، ثم تاب، ثم ارتكب ثم تاب، استقبل أهوال يوم القيامة وزلزالها وشدائدها، ثم يدخله الله الجنة، ومن عمل بفرائض الله وسننه وارتكب حدوده، لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان، فإن شاء عذبه، وإن شاء غفر له، قال: فقمنا من عنده وخرجنا. "كر".
٨٧٢٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے فرمایا : عامر بن قیس کی جمامع مسجد میں ایک نشست تھی، ہم ان کے پاس جمع ہوتے ، کچھ دن ہم نے انھیں گم پایا تو ہم ان کے پاس چلے آئے (ہم نے کہا :) ابوعبید اللہ ! آپ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر یہاں تنہا بیٹھ گئے ؟ انھوں نے فرمایا : اس مجلس میں بہت سی فضول اور ملی جلی باتیں ہوتی تھیں ، میں چند اصحاب رسول سے ملا ہوں، انھوں نے مجھے بتایا : کہ قیامت میں سب سے کمزور ایمان اس شخص کا ہوگا جس کا گوشت پوست دنیا میں زیادہ ہوگا انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں اور کچھ سنت قرار دی ہیں ، اور کچھ حدود مقرری ہیں، سو جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض اور اس کے (بتائے) طریقوں پر عمل کیا، اور حددو اللہ سے بچتا رہا تو اللہ تعالیٰ اسے بغیر حساب جنت میں داخل کریں گے۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض اور سنتوں پر عمل کیا (لیکن) اللہ تعالیٰ کی حدود کا مرتکب ہوا اور پھر توبہ کرلی (غلطی سے پھر) ارتکاب کیا، (لیکن پھر) توبہ کرلی پھر ارتکاب کیا اور توبہ کرلی، وہ قیامت کے روز کی ہول ناکیوں ، اس کے زلزلوں اور مصائب کا سامنا کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔
اور جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض وسنن پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کی حدود کا مرتکب ہوا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے، چاہیں تو عذاب دیں اور چاہیں تو معاف کردیں، فرماتے ہیں : ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔ (ابن عساکر)