8783- قال: حدثني محمد بن الحسن بن محمد بن طلحة، عن عبد الرحمن، عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن أبيه قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعك فيها أصحابه، وقدم رجل فتزوج امرأة كانت مهاجرة، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، فقال: يا أيها الناس إنما الأعمال بالنيات ثلاثا، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يطلبها أو امرأة يخطبها فإن هجرته إلى ما هاجر إليه، ثم رفع يديه، فقال: اللهم انقل عنا الوباء ثلاثا، فلما أصبح قال: أتيت هذه الليلة بالحمى فإذا عجوز سوداء ملببة1 في يد الذي جاء بها، فقال: هذه الحمى فما ترى فيها؟ فقلت اجعلوها لخم2 هناد في الزهد.
٨٧٨٣۔۔۔ محمد بن حسن بن محمد طلحہ سے ، وہ عبدالرحمن سے ، وہ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث سے ان کے سلسلہ سند میں ان کے والد سے روایت فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ منورہ نشریف لائے تو آپ کے صحابہ بخار میں مبتلا ہوگئے، اور ایک شخص آیا جس نے ایک ہجرت کرنے والی عورت سے شادی کرلی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور تین بار ارشاد فرمایا : لوگو ! جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا طلب کرنے یا کسی عورت سے منگنی کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے، پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور تین بار فرمایا : اے اللہ ! ہم سے یہ (بخار کی) وبامنتقل کردے۔
جب صبح ہوئی تو ارشاد فرمایا : اس رات بخار (کی بیماری) میرے پاس ایک بوڑھی سیاہ فام عورت کی شکل میں آئی ، اس شخص کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی جو اسے لایا تھا، اس نے کہا : یہ بخار ( کی بیماری) ہے آپ اس کے بارے کیا رائے رکھتے ؟ میں نے کہا : اسے یہاں سے بنی لخم منتقل کردو۔ (ھناد فی الزھد)