8782- أنا أبو محمد إسماعيل بن عمرو بن إسماعيل بن راشد المقرئ أنا أبو القاسم الحسين بن عبد الله بن أحمد القرشي، ثنا أبو بكر بن محمد بن زبان الحضرمي، ثنا محمد بن رمح، أنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن علقمة بن وقاص، عن عمر ابن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الأعمال بالنيات وإنما لامرئ ما نوى، فمن هاجر إلى الله ورسوله فقد هاجر إلى الله ورسوله، ومن هاجر لدنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته لما هاجر له. عن الزبير بن بكار في أخبار المدينة.
٨٧٨٢۔۔۔ ابومحمد اسماعیل بن عمرو بن اسماعیل بن راشد المقری ، ابوالقاسم بن عبداللہ بن احمد القرشی ، ابوبکر بن محمد بن زبان الحضرمی ، محمد بن رمح، لیث بن سعد ، یحییٰ بن سعد ، محمد بن ابراہیم بن الحارث، ان کے سلسلہ سند میں علقمہ بن وقاص سے روایت ہے وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے اس کی نیت ہے، جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (عن الزبیر بن بکار فی اخبار المدینۃ)