8825- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب فقد رجلا من أصحابه، فقال لابن عوف: انطلق بنا إلى منزل فلان فننظر، فأتيا منزله، فوجدا بابه مفتوحا، وهو جالس وامرأته تصب له في الإناء فتناوله إياه، فقال عمر لابن عوف: هذا الذي شغله عنا، فقال ابن عوف لعمر: وما يدريك ما في الإناء؟ فقال عمر: أتخاف أن يكون هذا التجسس؟ قال: بل هو التجسس، قال: وما التوبة من هذا؟ قال: لا تعلمه بما اطلعت عليه من أمره ولا يكونن في نفسك إلا خير، ثم انصرفا. "ص" وابن المنذر.
٨٨٢٥۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے اپنا ایک ساتھی گم پایا ، تو حضرت
عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا : ہمیں فلاں کے گھر لے چلوتا کہ ہم دیکھیں ، چنانچہ دونوں اس کے گھر آئے ، ان کا دروازہ کھلا پایا، وہ صاحب بیٹھے تھے اور ان کی بیوی برتن میں کچھ ڈال کر انھیں تھمارہی تھی۔
حضرت عمر نے ابن عوف سے فرمایا : اسی چیز نے اسے ہم سے غافل کررکھا ہے، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عمر سے کہا : آپ کو کیا معلوم کہ برتن میں کیا ہے ؟ تو حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ یہ تجسس ہوگا ؟ تو انھوں نے کہا : اے حضرت یہی تجسس ہے، تو آپ نے فرمایا : اس سے توبہ کیسے ہو ؟ کہا : آپ انھیں ، ان کے اس معاملہ کی خبر نہ کریں۔ اور آپ کے دل میں بھی بھلائی ہونی چاہیے پھر دونوں (وہاں ) واپس ہوگئے۔ (سعید بن منصور وابن المنذر)