8856- عن علي رضي الله عنه قال: إنما أخشى عليكم من اثنتين: طول الأمل، واتباع الهوى، فإن طول الأمل ينسي الآخرة، وإن اتباع الهوى يصد عن الحق، وإن الدنيا قد ارتحلت مدبرة، والآخرة مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون، فكونوا من أبناء الآخرة، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، فإن اليوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل.
ابن المبارك "حم" في الزهد وهناد وابن أبي الدنيا في قصر الأمل "حل ق" في الزهد "كر".
٨٨٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے تمہارے بارے دو چیزوں کا خوف ہے، لمبی امیدیں اور خواہشات کی پیروی، کیونکہ لمبی امیدیں ، آخرت بھلا دیتی ہیں اور خواہشات کا اتباع حق سے روک دیتا ہے، دنیا پیٹھ دے کر چل دی اور آخرت رخ کرکے روانہ ہوچکی ہے ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں، سو تم آخرت کے بیٹے بننا، دنیا کے بیٹے نہ بننا، کیونکہ آج عمل ہے حساب نہیں اور کل حساب ہوگا نہ کہ عمل۔ (ابن المبارک ، مسند احمد فی الزھد وھنادوابن ابی الدنیا فی قصر الامل، الحلیۃ فی الزھد، ابن عساکر)