8860- عن أبي سعيد قال: لما اشترى أسامة بن زيد وليدة بمائة دينار إلى شهر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تعجبون من أسامة المشتري إلى شهر، إن أسامة لطويل الأمل، والذي نفسي بيده ما طرفت عيناي إلا ظننت أن شفري لا يلتقيان، حتى يقبض الله روحي، ولا رفعت طرفي فظننت أني واضعه حتى أقبض، ولا لقمت لقمة إلا ظننت أني لا أسيغها حتى أغص بها من الموت، ثم قال: يا بني آدم إن كنتم تعقلون فعدوا أنفسكم من الموتى، والذي نفسي بيده، إنما توعدون لآت وما أنتم بمعجزين. "كر" وفيه أبو عقبة أحمد بن الفرج ضعيف.
٨٨٦٠۔۔۔ ابوسعید سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید (رض) نے ولیدہ کو ایک ماہ کے لیے سو دینار کے بدلہ خرایدا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں اسامہ پر ےتعجب جس نے ایک ماہ تک خریداری کا معاملہ کیا ہے، بیشک اسامہ بڑی لمبی امید والا ہے اس ذات سے پہلے اللہ تعالیٰ میری روح قبض کرلے گا۔
اور میں جب کو لقمہ چباتا ہوں تو مجھے یقین نہیں ہوتا کہ اسے نگل سکوں گا اور اس کے ساتھ موت نہ ملالوں، پھر فرمایا : اے انسانو ! اگر تمہیں عقل ہے تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا تم سے وعدہ ہے وہ آکر رہے گا اور تم عاجر کرنے والے نہیں ۔ (ابن عساکر، وفیہ ابوعقبۃ احمد بن الفرج ضعیف)