hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8863

.

كنز العمال

8863
Kanz al-Ummal
8863- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رجلان من أمتي جثيا بين يدي رب العزة فقال أحدهما: يا رب خذ لي مظلمتي من أخي، فقال الله تعالى: كيف تصنع بأخيك ولم يبق من حسناته شيء، قال: يا رب فليحمل من أوزاري، إن ذلك اليوم عظيم يحتاج الناس أن يحمل عنهم أوزارهم، فقال الله للطالب: ارفع بصرك فانظر، فرفع رأسه، فقال: يا رب أرى مدائن من ذهب، وقصورا من ذهب مكللة باللؤلؤ لأي نبي هذا؟ أو لأي صديق هذا؟ أو لأي شهيد هذا؟ قال: هذا لمن أعطى الثمن، قال: يا رب ومن يملك ذلك؛ قال: أنت تملك، قال: بماذا؟ قال: عفوك عن أخيك، قال: يا رب فإني قد عفوت عنه، قال الله: فخذ بيد أخيك، فأدخله الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: اتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم، فإن الله يصلح بين المسلمين يوم القيامة. الخرائطي في مكارم الأخلاق "ك" وتعقب.
٨٨٦٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے دو آدمی رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے، ان میں سے ایک کہے گا : اے میرے رب ! میرے بھائی سے میری مظلومیت کا بدلہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے اپنے بھائی کے ساتھ کیا کیا ہے اور اس کی کوئی نیکی باقی نہ بچے گی : وہ کہے گا : اے میرے رب ! ان وہ میرے گناہ اٹھالے، اور وہ دن بڑا سخت ہوگا، لوگ اس بات کے ضرورت مند ہوں گے کہ کوئی ان کا بوجھ اٹھالے۔
تو اللہ تعالیٰ طلبگار سے فرمائیں گے : اپنی آنکھ اٹھا اور دیکھ ، وہ اپنا سر اٹھائے گا، عرض کرے گا : رب توسونے کے شہرنظر آرہے ہیں، اور سونے کے محل جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے یہ کس نبی کے لیے ہیں ؟ یا کس صدیق اور شہید کے لیے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ اس کے لیے جس نے قیمت ادا کی، عرض کرے گا : ان کا مالک کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم ، عرض کرے گا : کیسے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اپنے بھائی کو معاف کرنے کی وجہ سے، وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں نے اسے معاف کردیا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ اور اسے جنت میں داخل کردو۔
اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مسلمانوں کے درمیان صلح کرائیں گے۔ (الخرائطی فی مکارم الاخلاق، حاکم وتعقب)