hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8935

.

كنز العمال

8935
Kanz al-Ummal
8935- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى المغيرة بن شعبة وهو عامله على الكوفة أن أدع من قبلك من الشعراء فأستنشدهم ما قالوا من الشعر في الجاهلية والإسلام، ثم أكتب بذلك إلي، فدعاهم المغيرة بن شعبة، فقال للبيد بن ربيعة: أنشدني ما قلت من الشعر في الجاهلية والإسلام، قال: قد أبدلني بذلك سورة البقرة وسورة آل عمران وقال للأغلب العجلي: أنشدني، فقال: أرجزا تريد أم قصيدا ... لقد سألت هينا موجودا فكتب بذلك المغيرة إلى عمر، فكتب إليه عمر: أن انقص الأغلب خمسمائة من عطائه، وزدها في عطاء لبيد، فرحل إليه الأغلب، فقال: اتنقصني أن أطعتك؟ فكتب عمر إلى المغيرة: أن رد على الأغلب الخمسمائة التي نقصته، وأقررها زيادة في عطاء لبيد بن ربيعة. ابن سعد.
٨٩٣٥۔۔۔ امام شعبی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کو خط لکھا جب وہ کوفہ کے گورنر تھے : اپنے پاس شعرا کو بلاکر ان سے جاہلیت اور اسلام کے اشعار سنوپھر ان کے بارے میں مجھے لکھو، تو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے انھیں بلایا، لبیدبن ربیعہ سے کہا : جاہلیت اور اسلام کے جو اشعار تم نے کہے ہیں مجھے سناؤ، تو انھوں نے کہا : میں نے اس کا بدلہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران اختیار کرلی ہے اور اغلب کرلی ہے اور اغلب عجلی سے کہا : مجھے شعر سناؤ تو انھوں نے کہا :
آپ زجزیہ اشعار سننا چاہتے ہیں یا قصیدہ ، آپ نے موجودہ بہترین چیز کا مطالبہ کیا ہے، تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے یہ کیفیت حضرت عمر (رض) کی طرف لکھی، تو حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف جوابا لکھا، اغلب کے وظیفہ سے پانچ سودرھم کم کردو، اور لبید کے وظیفہ میں اضافہ کردو، تو اغلب نے حضرت عمر کی طرف سفر کیا، اور کہا : کیا اگر میں آپ کی بات مانوں پھر بھی آپ مجھے کم دیں گے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے حضرت مغیرہ (رض) کی طرف لکھا : کہ اغلب کو پانچ سودرھم جو تم نے کم کردیئے تھے وہ واپس کردو اور لبید کے عطیہ میں اضافہ برقرار رکھو۔ (ابن سعد)